اس پر صرف میرا حق ہے۔۔۔ جس وجہ سے بے نظیر بھٹو موت کی آغوش میں چلی گئیں مریم نواز نے اُسی کو اپنی آنکھوں کا تارا بنا لیا، (ن) لیگ میں تشویش کی لہر

ایک انقلابی بیانیہ جو ووٹ کو عزت دو اور سویلین بالادستی کے نعروں سے لیس تھا، اچانک کھو گیا ہے۔ کئی ہفتوں کی تلاش کے باوجود اس بیانیے کا سراغ نہیں مل پا رہا۔ آخری بار اس بیانیے کو لاہور کے سروسز ہاسپٹل میں تشویشناک حالت میں دیکھا گیا تھا اور اس بیانیے سے منسوب یہ

بات سننے میں آئی تھی کہ سندھ اور بلوچستان سے تابوت اُٹھتے رہے ہیں، اگر اس بار ایک لاش پنجاب سے اُٹھے گی تو کیا غم ہے۔ نجانے اچانک ایسا کیا ہوا کہ یہ بیانیہ گم ہو گیا۔ اس سے پہلے بھی یہ بیانیہ کئی بار لاپتا ہوا مگر تھوڑی بہت تگ و دو کے بعد ڈھونڈ لیا گیا لیکن اس بار تو کہیں کسی قسم کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اگر کسی کو اس بیانیے کا ٹھکانہ معلوم ہو تو انعام پانے کی خاطر اسے واپس لانے یا مسکن بتانے کی ہرگز کوشش نہ کی جائے بلکہ اسے محض یہ بتانے پر اکتفا کیا جائے کہ۔۔۔۔تمہارے ساتھ سفر کی ساری صداقتیں بھی گئیں۔۔۔جنونِ عشق کی ساری حکایتیں بھی گئیں۔۔۔۔ہمارے ہاں نت نئے بیانیے متعارف ہونا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں۔ حالات و واقعات کی مناسبت اور عوام کی خواہشوں اور فرمائشوں کے پیش نظر انواع و اقسام کے بیانیے مارکیٹ میں آتے ہیں، تماشا دکھاتے ہیں اور داد سمیٹ کر چلے جاتے ہیں۔ چند برس ہوتے ہیں، راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا اور چہار اطراف امن و آشتی کا بسیرا تھا۔ ہمارے بحر کی موجوں میں کسی قسم کے اضطراب کے امکانات نہ تھے۔ اچانک پاناما لیکس کا طوفان آیا اور حکومت کی کشتی ہچکولے کھانے لگی۔ پھر وہی ہوا جو ہمارے ہاں ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ کشتی اچانک برپا کیے گئے طوفان میں کسی چٹان سے ٹکرا گئی تو ناخدا نے حادثے کا شکار ہونے کے بعد ایک نیا بیانیہ متعارف کروانے کا فیصلہ کر لیا

اور یہ بیانیہ تھا ’’ووٹ کو عزت دو‘‘۔ یہ بیانیہ لوگوں میں بہت مقبول ہوا۔ عوام نے اس بیانیے کو پذیرائی بخشی تو سمندر کا بندوبست سنبھالنے والوں نے ملاح اور اس کی بیٹی کو قید کر دیا۔ قیادت کو ابتلا و آزمائش کے صبر آزما مراحل سے گزرتے دیکھ کر انقلاب کے خواب دیکھنے والوں کے جوش وجذبات بھی آخری حدوں کو چھونے لگے اور گاہے یوں محسوس ہونے لگا جیسے منزل بہت قریب آگئی ہے۔ لیکن یہ خواب تب سراب ثابت ہوئے جب انقلاب کی کشتی کو پار لگانے والے ملاح نے اپنی جدوجہد ترک کرکے کسی دور دراز جزیرے پر لنگر انداز ہونے کی پیشکش قبول کرلی۔ اپنے چاہنے والوں کو تسلی اور تشفی دینے کے لئے یہ بات کہی گئی کہ قافلہ تھما نہیں بلکہ اس بیانیے کی باگ ڈور اب قائد ِ انقلاب کی پُرعزم بیٹی کے ہاتھ میں ہے اور ان کی غیر موجودگی میں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے ولولہ انگیز نعروں کی گونج سنائی دیتی رہے گی مگر یہ بات بھی محض ڈھکوسلا ثابت ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ باپ کی علالت کے باعث بیٹی کو تشویش لاحق ہوتی ہے اور دماغی حالت بھرپور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتی مگر قیادت کا بوجھ اُٹھانے والوں کو یہ تاویل زیب نہیں دیتی۔ جب بھٹو اسیر تھے تو ان کی بیٹی ’پنکی‘ نے کیسی ولولہ انگیز تحریک چلائی۔ باپ کو پھانسی دیئے جانے کے بعد بھی بینظیر نے پسپائی اختیار نہیں کی، حالات سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا اور ڈکٹیٹر کو مسلسل للکارتی رہی۔

تاریخ میں ایسی بیشمار مثالیں موجود ہیں کہ قیادت کرنے والوں نے اپنی ذاتی مجبوریوں اور مسائل کو پیروں کی زنجیر نہیں بننے دیا۔ اور پھر ایسی بھی کیا لاچاری کہ کئی ہفتوں سے کوئی تقریر یا بیان تو کیا، ایک ٹویٹ بھی نہ کیا جا سکا؟ یہ سوال اُٹھانے پر طعنہ دیا جاتا ہے کہ جب وہ بولنا شروع کریں گے تو آپ ان کے بیانات شائع یا نشر نہیں کر سکیں گے تو پھر ان کی خاموشی پر اعتراض کیوں کرتے ہیں؟ گویا یہ انقلابی جدوجہد میڈیا کوریج سے مشروط ہے۔ اگر میڈیا حالات کے جبر کا شکار ہو جائے گا تو پھر ہتھیار پھینک دیئے جائیں گے؟ اگر یہ جنگ میڈیا کے سہارے پر ہی لڑنا ہے تو پھر کل کے بجائے آج ہی صلح کر لیں۔ میڈیا ہی نہیں یہ پوری قوم، معاشرہ، یہ نظام آپ کے بقول حالات کے جبر کا شکار ہے۔ آپ ان مجبور و مقہور لوگوں کو آزادی دلانے نکلے ہیں، نجات دہندہ ہیں تو پھر میڈیا، سیاسی کارکنوں یا کسی اور سے شکوہ کیسا؟ یہ خاموشی تو تشویشناک تھی ہی مگر اب پُرعزم شہزادی نے بھی اسی جزیرے پر لنگر انداز ہونے کی خواہش ظاہر کر دی ہے جہاں ان کے والد موجود ہیں۔انقلاب کے علمبردار اور ملک و قوم کی کشتی کو منجدھار سے نکال کر لے جانے کا وعدہ کرنے والے امام برحق وقت کی دہلیز پر سجدہ ریز ہونے والے رہنمائوں پر ’’چابی والے کھلونوں‘‘ کی پھبتی کسا کرتے تھے۔ ان کا استدلال تھا کہ یہ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے وہ کھلونے ہیں جن کی چابی بھر دی جاتی ہے تو یہ دوڑنے لگتے ہیں اور جیسے ہی بٹن دبایا جاتا ہے یہ مخصوص مقام پر رُک جاتے ہیں۔ اب ایک اہم ترین اور حساس معاملے پر قانون سازی کا مرحلہ درپیش ہے۔ اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کے قافلے میں شامل لوگ بھی چابی والے کھلونوں کی طرح اس مقام مقصود پر باجماعت کھڑے ہو جائیں گے جہاں انہیں کہا جائے گا۔ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ جس جزیرے پر قائد ِ انقلاب لنگر انداز ہیں، وہاں اس حوالے سے مشاورت کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے اور اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ ایک بار پھر چابی والے کھلونے بننے پر اکتفا کرلیا جائے تاکہ پرانی تنخواہ پر کام کرنے کا موقع مل جائے۔ گویا سب محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہونے کو تیار ہیں، سب ایک ہی معشوق کے عشق میں گرفتار ہیں اور لڑائی بنیادی طور پر اس نکتے پر ہے کہ ’’چل پرے ہٹ نی، او صرف میرا ہے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں