پی ایس ایل فائیواس دفعہ لاہور کا۔۔۔۔ پچھلے سیزنز میں بری طرح شکست کھانے والی ٹیم، لاہور قلندر ز نے اس بار موقع ملتے ہی کس عالمی اسٹار کو خرید لیا؟ کرکٹ شائقین کے کام کی خبر

پاکستان سپرلیگ کے پانچویں ایڈیشن کے لیے ڈرافٹ کاعمل جاری ہے ،جہاں تمام چھ فارنچائز اپنے من پسند کھلاڑیوں کوٹیم میں شامل کررہی ہیں پاکستان سپرلیگ کے لیے ڈرافٹ کی تقریب لاہورمیں جاری ہے جس میں پلاٹینم کیٹیگری میں پہلی پک کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی تھی جنہوں نے انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے جیسن رائے

کاانتخاب کیا۔دوسری پک لاہور قلندرز کی تھی جنہوں نے آسٹریلیا کے کرس لن کی خدمات حاصل کیں، قلندرز نے ایک سال قبل بھی اپنی پہلی پک میں کرس لن کو منتخب کیا تھا لیکن جارح مزاج آسٹریلین بلے باز انجری کے سبب لیگ سے باہر ہو گئے تھے۔پلاٹینم کیٹیگری میں ملتان سلطان کی تیسری پک تھی اور انہوں نے انگلش آل راؤنڈر معین علی کو منتخب کیا جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے اس کیٹیگری میں جنوبی افریقہ کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر ڈیل اسٹین کو چنا۔کراچی کنگز نے شاندار انتخاب کرتے ہوئے مایہ ناز انگلش بلے باز ایلکس ہیلز کا پلاٹینم کیٹیگری میں انتخاب کیا۔ملتان سلطان نے پلاٹینم کیٹیگری میں اپنی دوسری پک میں جنوبی افریقہ کے رلی روسو کا انتخاب کیا، رلی روسو اس سے قبل پاکستان سپر لیگ کے تمام ایڈیشنز میں شرکت کر چکے ہیں لیکن انہوں نے تمام سیزنز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کی تھی البتہ اس مرتبہ وہ ایک نئی فرنچائز کی جانب سے ایکشن میں نظر آئیں گے۔اسلام آباد یونائیٹڈ نے پلاٹینم کی دوسری کیٹیگری میں بھی جنوبی افریقی کرکٹر کو ترجیح دیتے ہوئے کولن انگرام کو ٹیم میں شامل کر لیا۔ڈائمنڈ کیٹیگری کا آغاز ہوا تو پشاور زلمی نے ٹام بینٹن کی خدمات حاصل کیں جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے کولن منرو کی خدمات حاصل کیں جو گزشتہ سال کراچی کنگز کی طرف سے ایکشن میں نظر آئے تھے۔کراچی کنگز نے کرس جورڈن کا انتخاب کیا جن کو پلاٹینم سے ڈائمنڈ کیٹیگری میں تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور اس سے قبل وہ لیگ میں پشاور

زلمی کی نمائندگی کر چکے ہیں۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے آسٹریلین آل راؤنڈر بین کٹنگ کو منتخب کیا جبکہ ملتان نے ڈائمنڈ کیٹگری کے بجائے پہلی وائلڈ کارڈ انٹری کو آزماتے ہوئے سلور کیٹیگری کو ترجیح دیتے ہوئے 27سالہ ذیشان اشرف کو منتخب کیا۔اس کے بعد ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کے سابق اسٹار اور انگلش آل راؤنڈر روی بوپارہ کی خدمات حاصل کیں جبکہ پشاور زلمی نے قومی ٹیم کے سابق کرکٹر شعیب ملک کو ٹیم کا حصہ بنایا۔لاہور قلندرز کی باری آئی تو انہوں نے انگلش آل راؤنڈر سمیت پٹیل کو ٹیم میں شامل کیا جبکہ رومان رئیس کی اسلام آباد یونائیٹڈ میں واپسی ہوئی۔سہیل تنویر کو بڑا دھچکا لگا اور وہ دو درجہ تنزلی کے بعد پلاٹینم سے گولڈ کیٹیگری میں چلے گئے جہاں ان کا انتخاب ملتان سلطانز نے کیا۔کراچی کنگز کی باری آئی تو انہوں نے گولڈ کیٹیگری میں شامل شرجیل خان کی خدمات فوری طور پر حاصل کرنے میں کوئی دیر نہ لگائی۔پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی زد میں آنے والے شرجیل پر تین سال کی پابندی لگا دی گئی تھی تاہم اب پابندی کے خاتمے کے بعد ان کی کرکٹ میں واپسی ہوئی ہے۔پشاور زلمی نے لیام ڈاسن پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے انہیں اپنی ٹیم میں برقرار رکھا جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے فواد احمد کی خدمات دوبارہ حاصل کر لیں۔گولڈ کیٹیگری میں کھلاڑی کے انتخاب کا آخری موقع کراچی کنگز کو ملا جنہوں نے جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر کیمرون ڈیلپورٹ کو فرنچائز میں شامل کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں